اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کے آبائی علاقے کوٹ کئی کا محاصرہ کرلیا ہے جہاں شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسزکے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔سیکیورٹی فورسز جیٹ طیاروں اور کوبرا ہیلی کاپٹرز کی مدد سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہی ہیں جبکہ شیوانگی کے علاقے میں جھڑپوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے لدھا کی جانب پیشقدمی شروع کردی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اب تک کارروائی کے دوران ایک سو آٹھ شدت پسند ہلاک اور تیرہ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔جنوبی وزیرستان کے دو قبائل شرپسندوں کا ساتھ نہ دینے کے وعدے پر ڈٹے ہوئے ہیں، آپریشن راہ نجات کی کامیابی کے امکانات بڑھ گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے حکومتی اہلکاروں کے نام ظاہر کئے بغیر بتایا کہ یہ سمجھوتا جنوبی وزیرستان کے دو مقامی قبائل اور پاکستان فوج کے درمیان تین ہفتے پہلے طے پایا تھا جس کے تحت مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر کے گروپ اس آپریشن میں حکومت پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ سیکورٹی فورسز کو ان دونوں قبائل کے علاقوں سے گزرنے کی آزادی ہو گی جس کے جواب میں ان علاقوں پر بمباری اور پیٹرولنگ میں نرمی برتی جائے گی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سمجھوتے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ دیگر امریکی اہلکاروں نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ انکے لئے کسی تشویش کا باعث نہیں۔ اس معاملے پر پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے کہا ہے کہ کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا تاہم دونوں قبائل کے رہنماوٴں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ آپریشن میں حکیم اللہ محسود کا ساتھ نہیں دیں گے۔امریکا نے کہا ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف لڑائی پاکستان کے ساتھ مشترکہ مقاصد کا حصہ ہے اس سلسلے میں پاکستانی حکومت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اوراس کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی۔ واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان آئن کیلی نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے کہ پاکستانی فوج نے وزیرستان آپریشن کے دوران افغانستان میں حملوں میں ملوث طالبان کے دوگروپوں سے معاہدہ کرلیا ہے کہ وہ لڑائی سے دور رہیں تو ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کی اپنی سرحدوں میں انتہا پسندوں اور دہشت گردتنظیموں کے خلاف کارروائی کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ترجمان نے کہا کہ قبائلی پہاڑی علاقوں میں آپریشن انتہائی مشکل ہوتا ہے تاہم پاکستانی فوج نے سوات میں کامیاب کارروائی کی ہے اوراب جنوبی وزیرستان میں آپریشن کررہی ہے جو اس کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ایک سوال پرآئن کیلی نے ایران میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنداللہ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس میں ملوث تھی یا نہیں کیونکہ اس خطے میں کئی گروپ سرگرم عمل ہیں۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 169880
شدت پسندوں کے خلاف آپریشن راہ نجات چوتھے روز بھی جاری ہے جس میں مزید تیس شدت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ جھڑپوں میں چار جوان بھی جاں بحق ہوئے ہیں ۔حکیم اللہ محسود کے آبائی علاقے کوٹ کئی کا محاصرہ